مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا، مہنگائی کی ہفتہ وار شرح 31 فیصد کی سطح سے بھی اوپر چلی گئی
رواں ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0 عشاریہ 44 فیصد اضافہ ہوا، 23 اشیاء مہنگی ہوئیں، 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا
13 جنوری2023ء) مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا، مہنگائی کی ہفتہ وار شرح 31 فیصد کی سطح سے بھی اوپر چلی گئی، رواں ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0 عشاریہ 44 فیصد اضافہ ہوا، 23 اشیاء مہنگی ہوئیں، 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.44 فیصد کا اضافہ ہو گیا، 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں، 7 سستی ہوئیں جبکہ 21 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ یوں ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 31.7 فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ ہفتے مہنگائی کی مجموعی شرح 30.60 فیصد تھی۔ ادارہ شماریات کے مطابق آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 115 روپے ، ایل پی جی کے 11.67 کلو سلنڈر کی قیمت میں 134 روپے کا اضافہ ہوا، ڈبل روٹی کی قیمت 4 روپے بڑھ گئی جبکہ لہسن کی فی کلو قیمت میں 16 روپے کا اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق انڈے فی درجن 12 روپے مہنگے ہوئے، باسمتی ٹوٹا چاول 5، باسمتی ثابت چاول فی کلو 3 روپے مہنگے ہوئے، ایک ہفتے میں دال مونگ 10، دال چنا 5، دال مسور 4 روپے مہنگی ہوئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق سرسوں کے تیل کی قیمت میں بھی 8 روپے کا اضافہ ہوا، آگ جلانے والی لکڑی، گڑ، انرجی سیور بلب اور کھلا دودھ بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ایک ہفتے میں ٹماٹر 8 روپے سستے ہوئے، آلو کی قیمت میں 5 روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی، زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 13 روپے کی کمی ہوئی، ویجیٹبل گھی اور چینی بھی حالیہ ہفتے سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ ورلڈکپ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی 70 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے، حالیہ بدترین سیلاب اور سیاسی بے یقینی پاکستان کے مشکل معاشی حالات کی بڑی وجوہات ہیں، پاکستان کو بیرونی قرض کی ادائیگیوں کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ دسمبر میں 24.5 فیصد مہنگائی کی شرح 1970 کی دہائی کے بعد بلند ترین ہے، پاکستان میں سیلاب کے باعث جی ڈی پی کو 4.8 فیصد مساوی نقصان پہنچا۔ جون سے دسمبر تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 14 فیصد گر چکی ہے، موسمیاتی شدت خوراک اور ضروری اشیاء کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے، انفرا اسٹرکچر اور زرعی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے، اس دوران کنٹری رسک پریمیئم میں 15 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ جبکہ معروف ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح مزید 10 فیصد اضافے سے 35 فیصد تک جا سکتی ہے۔
https://reviewstask1.blogspot.com
No comments:
Post a Comment